بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

عمرہ کی ادائیگی کے لیے جانے والے کا کسی ضرورت کے لیے قرضہ لینا

سوال

میرا فیملی کے ساتھ عمرہ کا ارادہ ہے، سب افراد کے لیے  عمرہ کی رقم بھی جمع کروادی ہے، اب کچھ اخراجات کے لیے کسی دوست سے قرض لے سکتا ہوں جس کو تن خواہ کا چیک دے کر جاؤں گا؛ کیوں کہ تن خواہ میری عمرہ کے جانے کے بعد آجائے گی، نیز زندگی موت اللہ کے اختیار میں ہے،ادائیگی کی قوی امید ہے؛ کیوں کہ ہماری تن خواہ کے علاوہ بھی کمپنی کے پاس بھی قرض سے زیادہ رقم پراویڈنٹ فنڈ کی صورت میں جمع ہے جس سے چیک پاس ہو سکتا ہے.

جواب

صورتِ مسئولہ میں آپ  مذکورہ ضرورت کے لیے  کسی سے قرض لے سکتے ہیں ، اور بالخصوص جب کہ  آپ اس کی ادائیگی کا بھی معقول انتظام کرکے جارہے ہیں، لہذا  اس سے آپ کے عمرہ کی ادائیگی میں کسی قسم کراہت نہیں ہوگی۔فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144004201347
تاریخ20-02-2019

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں