بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

رقم حاصل کرنے کے لیے قسطوں پر گاڑی لے کر آگے فروخت کرنا

سوال

اگر اس نیت سے قسطوں پر گاڑی لی جائےکہ بعد میں اس کو فروخت کرکے نقد رقم حاصل کی جائے، حاصل شدہ رقم سے کوئی بھی جائز کاروبار کر کے اس کی قسط ادا کی جائے، شرعی لحاظ اس کا کیا حکم ہے؟

جواب

گاڑی کی کل قیمت طے کرکے قسطوں میں خرید کر ،اپنی ضرورت کے لیے اس کو آگے فروخت کرکے اس کی رقم اپنی ضرورت میں  استعمال کرے  تو  شرعاً یہ جائز ہے، اگرچہ اسی نیت سے گاڑی  لی ہو۔

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (5/ 326):
"ثم قال في الفتح ما حاصله: إن الذي يقع في قلبي أنه إن فعلت صورة يعود فيها إلى البائع جميع ما أخرجه أو بعضه كعود الثوب إليه في الصورة المارة وكعود الخمسة في صورة إقراض الخمسة عشر فيكره يعني تحريماً، فإن لم يعد كما إذا باعه المديون في السوق فلا كراهة فيه بل خلاف الأولى، فإن الأجل قابله قسط من الثمن، والقرض غير واجب عليه دائماً بل هو مندوب وما لم ترجع إليه العين التي خرجت منه لايسمى بيع العينة؛ لأنه من العين المسترجعة لا العين مطلقاً، وإلا فكل بيع بيع العينة اهـ وأقره في البحر والنهر والشرنبلالية وهو ظاهر، وجعله السيد أبو السعود محمل قول أبي يوسف، وحمل قول محمد والحديث على صورة العود". 
فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144004201299
تاریخ19-02-2019

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں