کیا سنن اور فرض کے درمیان دنیاوی باتیں کرنے سے ثواب میں کمی آتی ہے؟
سوال
کیا ایسا کوئی مسئلہ ہے کہ فرض اور سنن کے درمیان زیادہ فصل نہ ہو؟ اتصال ہو؟ اور اگر درمیان میں دنیاوی بات کر لی تو سنن کا ثواب irrecoverable ہوگا؟
جواب
سنت اور فرض کے درمیان زیادہ فاصلہ نہیں کرنا چاہیے، نیز درمیان میں باتیں بھی نہیں کرنی چاہییں، دنیاوی باتوں میں مشغول ہونے سے ثواب میں کمی واقع ہوجاتی ہے۔
تنویر الابصار مع الدر المختار میں ہے:
"(وَلَوْ تَكَلَّمَ بَيْنَ السُّنَّةِ وَالْفَرْضِ لَايُسْقِطُهَا وَلَكِنْ يَنْقُصُ ثَوَابُهَا) وَقِيلَ: تَسْقُطُ... الخ قُنْيَةٌ".
فتاوی شامی میں ہے:
"(قَوْلُهُ: وَلَوْ تَكَلَّمَ إلَخْ) وَكَذَا لَوْ فَصَلَ بِقِرَاءَةِ الْأَوْرَادِ لِأَنَّ السُّنَّةَ الْفَصْلُ بِقَدْرِ " اللَّهُمَّ أَنْتَ السَّلَامُ إلَخْ " حَتَّى لَوْ زَادَ تَقَعُ سُنَّةً لَا فِي مَحَلِّهَا الْمَسْنُونِ كَمَا مَرَّ قُبَيْلَ فَصْلِ الْجَهْرِ بِالْقِرَاءَةِ. (قَوْلُهُ: وَقِيلَ: تَسْقُطُ) أَيْ فَيُعِيدُهَا لَوْ قَبْلِيَّةً، وَلَوْ كَانَتْ بَعْدِيَّةً فَالظَّاهِرُ أَنَّهَا تَكُونُ تَطَوُّعًا، وَأَنَّهُ لَايُؤْمَرُ بِهَا عَلَى هَذَا الْقَوْلِ، تَأَمَّلْ". (كتاب الصلاة، باب الوتر و النوافل، مطلب في تحية المسجد، ٢/ ١٩، ٢٠) فقط واللہ اعلم
دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن

