بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

2 جُمادى الأولى 1448ھ 14 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

بیٹی کا نام زینب رکھنا

سوال

اپنی بیٹی کا نام زینب رکھنا چاہتا ہوں جو  11 فروری 2019 کو دنیا میں آئی، آپ بتاسکتے ہیں کہ یہ نام بھاری تو نہیں پڑے گا ؟میں سنی مسلک سے تعلق رکھتا ہوں۔

جواب

صحابیات میں سے کئی صحابیات کا نام زینب تھا اور آپ صلی اللہ علیہ و سلم کی ازواجِ مطہرات رضی اللہ عنہن میں سے دو کا نام "زینب" تھا، جن میں سے ایک زوجہ کا نام "برہ"  تھا جسے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تبدیل فرماکر "زینب"  رکھا ، لہذا بلاتردد یہ نام رکھ سکتے ہیں۔ 

جیسا کہ صحیح  مسلم ـ (6 / 173):
"عن أبي هريرة أن زينب كان اسمها برة، فقيل: تزكى نفسها. فسماها رسول الله صلى الله عليه وسلم زينب". (الآداب ،باب استحباب تغییر الاسم القبیح إلی حسن... الخ ،دار الجیل بیروت) فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144004201255
تاریخ17-02-2019

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں