بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

ٹرسٹ والوں کا زکات کی رقم سے نادار مریضوں کا علاج کروانے کا حکم

سوال

ایک ٹرسٹ جو نادار مریضوں کا مفت علاج کرتاہے، علاج چوں کہ  آج کل بہت مہنگا ہے.اور مریضوں کی تعداد بڑھتی جا رہی ہے، کیا مدرسہ کے طرز پربحیلہ تملیک زکات کی رقم کو وقف کر کےمستحقین پر خرچ کیا جاسکتا ہے؛ تاکہ موجود اور مسلسل آنے والے مریضوں کے لیے رقم کی کمی نہ ہو؟ یاجو بھی طریقہ جائز ہو اس کی طرف راہ نمائی فرمائیں.یاد رہے کہ زکات کے علاوہ دوسری مدات میں بڑی رقم کا ملنا ممکن نہیں.

جواب

واضح رہے کہ زکات  کی ادائیگی کے لیے تملیک ( کسی مستحقِ زکات کو مالک بنانا) شرط ہے، لہٰذا اگر ٹرسٹ والے مستحقِ زکات مریضوں کا علاج زکات کے پیسوں سے کرنا چاہتے ہیں تو اس کا طریقہ یہ ہے کہ ٹرسٹ والے لوگوں سے زکات  کی رقم وصول کرنے کے بعد مستحقِ زکات مریضوں کو دے دیں اور پھر علاج کی مد میں ان سے وہ رقم لے کر اس رقم کو ان کے علاج میں صرف کردیں۔

مستقل طور پر حیلہ تملیک کا سہارا لے کر زکات کی رقم کو تمام مصارف میں خرچ کرنے کی اجازت نہیں ہے، مدارس میں بھی شدید ضرورت اور شرائط کی رعایت رکھے بغیرحیلہ تملیک کرنا درست نہیں ہے۔ فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144004201247
تاریخ17-02-2019

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں