دماغ خراب ہونے کی حالت میں طلاق کا حکم
سوال
اگر شوہر کا دماغ خراب ہو اور بیوی کو طلاق کہہ دے تو طلاق ہو جاتی ہے؟
جواب
دماغ خراب ہونے سے مراد اگر غصہ کی حالت ہو تو طلاق واقع ہو جائے گی، اور اگر دماغ خراب ہونے سے مراد یہ ہو کہ وہ پاگل یا مجنون ہے تو طلاق واقع نہیں ہوگی۔ فقط واللہ اعلم
دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن
فتویٰ نمبر
144004201243
تاریخ16-02-2019

