بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

2 جُمادى الأولى 1448ھ 14 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

گناہ سے توبہ کرنا

سوال

اگر کسی نامحرم سے تنہائی میں ملے اور اس حد تک اس کے قریب ہوجائے کہ وہ اسے پوری طرح چھولے بس زنا نہ ہو اور اس کو احساسِ گناہ ہوجائے تواللہ سے معافی مانگ لے تو کیا اس کی معافی قبول ہوگی؟

جواب

حدیث شریف میں آتا ہے کہ ہر بنی آدم خطا کار ہے، لیکن اللہ کے نزدیک اچھا خطا کار وہ ہے  جو خطا کے بعد توبہ کرنے والا ہو۔

سنن ابن ماجه ت الأرنؤوط (5/ 321):
"عن أنس، قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: "كل بني آدم خطاء، وخير الخطائين التوابون".

اللہ تعالیٰ توبہ کرنے والے کو بہت پسند فرماتے ہیں اور اس کی توبہ کو قبول فرماتے ہیں، اس لیے اگر کوئی شخص  سچے دل سےگناہ سے  توبہ کر لے اور ماضی پر  نادم بھی ہو اور آئندہ گناہ نہ کرنے کا عزم بھی کر لے تو اللہ تعالیٰ ایسے شخص کی توبہ قبول فرما کر اس کو معاف فرما دیتے ہیں۔ فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144004201221
تاریخ15-02-2019

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں