بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

نابالغ کا ہدیہ قبول کرنا

سوال

نابالغ بچے کا ہدیہ قبول کرنا کیسا ہے؟

جواب

نابالغ اگر اپنے مال میں سے ہدیہ دےتو اسےقبول کرنا جائز نہیں ہے، جواز کے لیے بلوغت شرط ہے۔

ہاں اگر والدین اپنا مال دے کر نابالغ سے کہیں کہ یہ ہدیہ فلاں شخص کو دے دو تو اس کا قبول کرنا درست ہے، اس لیے کہ وہ درحقیقت نابالغ کا مال نہیں ہے، بلکہ والدین کا ہے، اور بچوں کو ہدایا پیش کرنے کا عادی بنانے کے لیے والدین ایسا کرتے ہیں اور یہ چیز کبھی صراحتاً ہوتی ہے اور کبھی دلالۃً ہوتی ہے۔(فتاوی محمودیہ 18/166) 

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (6/ 173):
"(وتصرف الصبي والمعتوه) الذي يعقل البيع والشراء (إن كان نافعاً) محضاً (كالإسلام والاتهاب صح بلا إذن وإن ضاراً كالطلاق والعتاق) والصدقة والقرض (لا وإن أذن به وليهما.

(قوله: والاتهاب) أي قبول الهبة وقبضها وكذا الصدقة، قهستاني (قوله: وإن ضاراً) أي من كل وجه أي ضرراً دنيوياً، وإن كان فيه نفع أخروي كالصدقة والقرض (قوله: كالطلاق والعتاق) ولو على مال فإنهما وضعاً لإزالة الملك وهي ضرر محض، ولايضر سقوط النفقة بالأول وحصول الثواب بالثاني، وغير ذلك مما لم يوضعا له إذ الاعتبار للوضع، وكذا الهبة والصدقة وغيرهما قهستاني". فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144004201200
تاریخ14-02-2019

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں