بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

12 جُمادى الأولى 1448ھ 24 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

اقلیت کے لیے مختص کوٹہ پر بھرتی ہونے والا مسلمان ہوجائے تو ملازمت کا حکم

سوال

اقلیت کے لیے مختص کوٹہ پر بھرتی ہونے کے بعد مسلمان ہوجائے تو وہ نوکری کرنا جائز  ہے?نیز حکومت پھر اس کو نکال سکتی ہے?

جواب

اقلیتوں کے لیے مختص کوٹہ پر اگر کوئی غیر مسلم بھرتی  ہو جائے اور اس کے بعد وہ مسلمان ہوجائے  تو اگر وہ ملازمت جائز کام کی ہے تو اس کے لیے وہ ملازمت جائز ہے اور تن خواہ بھی حلال ہوگی۔مسلمان ہونے کے بعد محض مسلمان ہونے سے اسے برطرف نہیں کرنا چاہیے، لیکن اگر حکومت ایسا کرتی ہے تو اس کی مجاز ہے۔ فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144004201199
تاریخ14-02-2019

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں