بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

13 جُمادى الأولى 1448ھ 25 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

کیا زیرِ ناف بالوں کی صفائی غسلِ حیض سے پہلے کی جا سکتی ہے؟

سوال

زیر ناف بال غسل حیض سے پہلے کاٹنے کا حکم ہے یا بعد میں؟

جواب

حیض کی حالت میں عورت کے لیے زیر ناف بال و بغل کے بال کاٹنے کے سلسلے میں کوئی صریح جزئیہ نہیں مل سکا؛ البتہ فقہائے کرام نے جنابت کی حالت میں ناخن اور بال کاٹنے کو مکروہ لکھا ہے، اس سے معلوم ہوتا ہے کہ عورت کے لیے بھی حیض کی حالت میں ناخن کاٹنا اور زیر ناف، و بغل کے بال صاف کرنا مکروہ ہے۔ فتاوی ہندیہ میں ہے:

"حلق الشعر حالة الجنابة مکروه، وکذا قَصُّ الأظافیر". (الفتاوی الهندیة: ٥/ ٤١٤)

لہذا صورتِ مسئولہ میں غسلِ حیض سے فراغت کے بعد غیر ضروری بالوں کی صفائی کرنا چاہیے۔ فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144004201181
تاریخ13-02-2019

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں