بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

طلاق کے وقوع کے لیے بیوی کا سننا ضروری نہیں ہے

سوال

میرے شوہر نے پندرہ دن پہلے مجھے کال کی، وہ اپنے  گھر میں موجود تھے، لیکن یہ نہیں جانتی کے اس کے ساتھ کون کون تھا، کال کرکے تھوڑی دیر بات کی، اور کہا میں divorce ( طلاق ) دینا چاہتا ہوں مجبور ہوکر، یہ سنناتھا کہ میرے سے موبائل گرگیا اور کال کٹ گئی، پھر ان سے رابطہ کیا  انہوں نے کہا : ”میرا تم سے کوئی تعلق نہیں ہے“ میرے موبائل میں کال ریکاڈر سے ان کی کال سنی گئی تو اس میں طلاق  ایک لفظ  تھا جو میری فیملی نے سنی ، میں نے نہیں، اور وہ شخص بضد ہے کہ  میں نے تین  لفظ کہے ہیں، جب کہ مجھے نہیں کہے گئے، آیا ایسے مجھے  طلاق شرعاً ہوگئی ہے کہ نہیں؟ اگر ایک دی تو ایک ہوئی یا نہیں؟ اور وہ بضد ہے کہ تین لفظ بولے، جب کہ میرے والدنے جب  پوچھا کہ کیا؟ تو وہ کہہ نہیں رہے ، تو اب شرعاً بتائیں کہ طلاق جو کہ میں نے نہیں سنی اور شخص اپنی فیملی  کے سامنے ان کے سامنے ہی جھوٹ بول رہا ہے کہ دی تو کیا طلاق ہوگئی یا نہیں ؟

جواب

صورتِ مسئولہ میں اگرشوہر  اس بات کا اقرار کررہا ہے کہ  میں نے تین طلاقیں دی ہیں  تو تینوں  طلاقیں واقع ہوکر نکاح ختم ہوگیا ہے۔بیوی کا سننا ضروری نہیں ہے۔  تاہم بہتر یہ ہے کہ شوہر کی گفتگو  بلفظہ نقل کرکے جواب حاصل کیا جائے۔فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144004201173
تاریخ13-02-2019

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں