مسبوق کے لیے امام کی اقتدا میں درود شریف پڑھنے کا حکم
سوال
مسبوق آدمی صرف تشہد پڑھےگا یادرود شریف بھی پڑھے گا؟
جواب
مسبوق کے لیے فقہاءِ کرام نے یہ حکم لکھا ہے کہ وہ امام کی اقتدا میں قعدہ اخیر میں صرف تشہد پڑھے گا، درود شریف اور دعا نہیں پڑھے گا، اسے چاہیے کہ تشہد اس طرح ٹھہر ٹھہرکر پڑھے کہ امام کے سلام کے قریب تشہدختم ہوجائے۔"فتاوی ہندیہ" میں ہے :
"( ومنها ) أن المسبوق ببعض الركعات يتابع الإمام في التشهد الأخير وإذا أتم التشهد لايشتغل بما بعده من الدعوات، ثم ماذا يفعل؟ تكلموا فيه، وعن ابن شجاع أنه يكرر التشهد أي قوله : أشهد أن لا إله إلا الله، وهو المختار ، كذا في الغياثية. والصحيح أن المسبوق يترسل في التشهد حتى يفرغ عند سلام الإمام ،كذا في الوجيز للكردري وفتاوى قاضي خان. وهكذا في الخلاصة وفتح القدير". (3/191)فقط واللہ اعلم
دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن

