بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

12 جُمادى الأولى 1448ھ 24 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

رکشہ برائے فروخت پر زکات واجب ہے؟

سوال

زید کے پاس رکشہ ہے اور وہ اسے کرایہ پر لوگوں کو دیتا ہے، اور وہ کہتا ہےکہ میرا رکشہ کرایہ کے لیے ہے، ہاں اگر اچھا خریدار ملا تو فروخت بھی کردوں گا۔ زید کے اس رکشہ پر زکات واجب ہوگییا نہیں؟ 

جواب

صورتِ مسئولہ میں رکشہ کی مالیت پر زکات واجب نہیں ہے، البتہ کرایہ اگر بچ جاتا ہو اور زید صاحبِ نصاب ہو تو زکات کی تاریخ آنے پر کرایہ کی زکات بھی اداکردیا کرے۔ جب رکشہ فروخت کردیا تو  اس کی قیمت کو دیگر قابلِ زکات مال کے ساتھ شامل کرنا ہوگا۔فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144004201158
تاریخ12-02-2019

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں