بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

حرام اجزاء والے چاکلیٹ غیرمسلم کو دینے کاحکم

سوال

ہمارے ہاں غلطی سے ایک چاکلیٹ کا ڈبہ آگیا جس میں حرام اجزاء بھی ملےہوئےہیں،  یہ چاکلیٹ پھینک دیں یا غیر مسلم دوستوں کو  دے سکتا ہوں؟

جواب

ایسی  چاکلیٹ  جس میں کچھ اجزاء حرام  ہوں ، جہاں سے وہ آئی ہے اگر وہاں واپس ہوسکتی ہو، (مثلاً: کسی دکان، اسٹور یا کمپنی سے خریدی ہے) تو اسے واپس کردیا جائے، اور جو رقم دے کر خریدی تھی وہ واپس لے لی جائے، اگر یہ ممکن نہ ہو تو اسے ضائع کرنے کے  بجائے غیر مسلم کو دے دیا جائے ،ہاں اگر سارے ہی اجزاء حرام ہیں تو پھر اسے ضائع کردیا جائے۔فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144004201131
تاریخ11-02-2019

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں