بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

موبائل فون کے ذریعہ نکاح درست نہیں

سوال

موبائل فون پر نکاح جائز ہے کہ نہیں؟

جواب

انعقادِ نکاح کے لیے چوں کہ عاقدین یا ان کے وکلاء کا ایجاب و قبول کرتے وقت مجلسِ نکاح میں ہونا شرعاً ضروری ہے جس کی وجہ سے موبائل پر نکاح منعقد نہیں ہوتا، البتہ اگر موبائل پر کسی شخص کو وکیل بنا دیا جائے اور وہ وکیل اُس کی طرف سے گواہوں کی موجودگی میں مجلس نکاح میں ایجاب یا قبول کر لے تو ایسی صورت میں نکاح منعقد ہو جائے گا۔

الفتاوى الهندية (1/ 268):

"(ومنها) سماع الشاهدين كلامهما معاً، هكذا في فتح القدير".  فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144004201127
تاریخ11-02-2019

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں