غصہ کی حالت میں دی جانے والی تین طلاقوں کا حکم
سوال
میں نے انتہائی غصے کی صورت میں بیوی کو الگ الگ تین بار طلاق بولا، پھر بعد میں بہت پریشان تھا، اب کیا حکم ہے؟
جواب
غصہ کی حالت میں دی جانے والی طلاق بھی واقع ہو جاتی ہے، چنانچہ آپ نے غصے میں بیوی کو تین طلاقیں دی ہیں تو تینوں واقع ہو چکی ہیں، آپ دونوں کا نکاح ٹوٹ چکا ہے، وہ آپ پر حرمتِ مغلظہ کے ساتھ حرام ہو چکی ہے ، اب رجوع جائز نہیں ہے اور حلالہ شرعیہ کے بغیر دوبارہ نکاح بھی جائز نہیں ہے۔فقط واللہ اعلم
دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن
فتویٰ نمبر
144004201122
تاریخ11-02-2019

