بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

3 جُمادى الأولى 1448ھ 15 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

سینگ اور ٹانگ ٹوٹے جانور کی قربانی کا حکم

سوال

1۔  اگر جانور کا سینگ ٹوٹ جائے اور یہ ٹوٹنا اوپر کے حصے سے ہو یا درمیان سے ہو تو کیا اس کی قربانی جائز ہو گی؟

2۔  اگر ٹانگ ٹوٹ جائے اور اس کا لنگڑا پن ظاہر نہ ہوتا ہو تو کیا اس کی قربانی جائز ہو گی؟

جواب

1-- ہر اس جانور کی قربانی جائز ہے جس کے سینگ جڑ سے نہ ٹوٹے ہوں،   نیز وہ جانور جن کے سینگ تراشے گئے ہوں جڑ سے نکالے نہ گئے ہوں یا از خود درمیان سے ٹوٹ گئے ہوں ان کی قربانی بھی شرعاً جائز ہے۔ 

2--کسی جانور کی ٹانگ ٹوٹ جائے اور جانور چلتے وقت وہ ٹانگ زمین پر بالکل نہ رکھے، بلکہ تین ٹانگوں کے سہارے چلے اور ٹوٹی ہوئی ٹانگ زمین سے اٹھا کر چلے تو یہ قربانی میں عیب ہے، اس کی موجودگی میں قربانی درست نہیں ہوگی۔

لیکن اگر چوٹ کی نوعیت ایسی ہو کہ جانور   چلتے ہوئے اس ٹانگ سہارا لے تو اس جانور کی قربانی درست ہوگی۔ فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144004201079
تاریخ08-02-2019

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں