بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

16 جُمادى الأولى 1448ھ 28 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

کسی کے مملوکہ درخت کی شاخین پڑوسی کی زمین کے لیے نقصان کا باعث ہوں تو کیا پڑوسی شاخین کاٹ سکتاہے؟ نیز ان شاخوں کا پھل جو اس کی زمین پر گرے استعمال کرسکتاہے؟

سوال

میری ملک میں ایک درخت ہے، اس کی شاخوں کے سایہ سے پڑوسی کو تکلیف ہوتی ہے، اسی طرح اس کے میوے اور پتے دوسرے کے زمین پر گرتے ہیں، اس درخت کے سائے سے پڑوسی کی زمین کی  فصل پر فرق پڑتاہے تو  کیا یہ پڑوسی وہ میوہ لے سکتا ہے یا وہ شاخ کاٹنےکا حق دار ہے؟  برائے کرم تفصیلاً وضاحت فرمائیں!

جواب

صورتِ مسئولہ میں اگر آپ پڑوسی کو درخت کے پھل لینے کی اجازت دیتے ہیں تو ان کے لیے پھل لینا جائز ہوگا۔

آپ کے درخت کی شاخیں اگر پڑوسی کے لیے پریشانی کا سبب ہیں کہ اس کی فصل کو نقصان ہورہا ہے یا اس کی ہوا وغیرہ رک رہی ہے تو آپ شاخیں کٹوادیں یا پڑوسی کو کاٹنے کی اجازت دے دیں۔

مجلة الأحكام العدلية میں ہے:

"الْمَادَّةُ (١١٩٦): إذَا امْتَدَّتْ أَغْصَانُ شَجَرِ بُسْتَانِ أَحَدٍ إلَى دَارِ جَارِهِ أَوْ بُسْتَانِهِ فَلِلْجَارِ أَنْ يُكَلِّفَهُ تَفْرِيغَ هَوَائِهِ بِرَبْطِ الْأَغْصَانِ وَجَرِّهَا إلَى الْوَرَاءِ أَوْ قَطْعِهَا. وَلَكِنْ لَا تُقْطَعُ الشَّجَرَةُ بِدَاعِي أَنَّ ظِلَّهَا مُضِرٌّ بِمَزْرُوعَاتِ بُسْتَانِ الْجَارِ". (الْبَابُ الثَّالِثُ فِي بَيَانِ الْمَسَائِلِ الْمُتَعَلِّقَةِ بِالْحِيطَانِ وَالْجِيرَانِ، ١/ ٢٣١) فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144004201022
تاریخ05-02-2019

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں