بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

16 جُمادى الأولى 1448ھ 28 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

تقسیم ترکہ 1 بیوہ ایک بہن اور ایک چچا زاد بھائی

سوال

ایک آدمی کی وفات ہوئی ہے اور اس کی وراثت تقسیم کرنی مطلوب ہے، مرحوم کی کوئی اولاد نہیں ہے اور قریبی رشتہ داروں میں دو بہنیں ہیں جس میں ایک بہن مرحوم کی وفات سے پہلے ہی وفات پاچکی ہیں اور اس کی اولاد موجود ہے، اور ایک بیوی اورایک چچازاد بھائی موجود ہیں، وراثت ان میں کس کواور کس حساب سے ملے گی؟ وراثت میں ملکیتی زمیں موجود ہیں۔

جواب

صورتِ مسئولہ میں مرحوم کے کل ترکہ کو چار حصوں میں تقسیم کر کے بیوہ کو ایک حصہ، مرحوم کی زندہ بہن کو دو حصے اور مرحوم کے چچازاد بھائی کو بطورِ عصبہ ایک حصہ ملے گا، جب کہ مرحوم کی جو بہن ان کی حیات میں انتقال کرگئیں تھی ان کی اولادوں کا مرحوم کے ترکہ میں کچھ حصہ نہیں، البتہ اگر باقی ورثاء ان کو اپنی مرضی سے کچھ دینا چاہیں تو دے سکتے ہیں۔ فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144004201018
تاریخ05-02-2019

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں