بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

پیشاب کے قطرے آتے ہوں تو امامت کرنا درست ہے یا نہیں؟

سوال

اگر کسی کو پیشاب کے قطرے  آتے ہیں، لیکن پیشاب کرنے کے تھوڑی دیر بعد ختم ہو جاتے ہیں تو اگر وہ یہ عادت بنالے کہ نماز کے وقت سے پہلے ہی استنجا وغیرہ سے فارغ ہوجائے  توکیا وہ امامت کرسکتا ہے یا نہیں؟

جواب

اگرکسی شخص کو  صرف استنجا سے فراغت کے بعد کچھ قطرے آتے ہیں،اور بعد میں قطرے بند ہوجاتے ہیں  تو یہ شخص شرعاً معذور کے حکم میں نہیں ہے،لہذا ایسے شخص کو چاہیے کہ  نماز کاوقت آنے سے پہلے ہی استنجا  کرلے اور یہ شخص انڈروئیر کا استعمال کرلے، اور استنجا  کرنے کے بعد  انڈروئیر میں ٹشو وغیرہ رکھ لے; تاکہ کچھ وقت بعد اگر قطرے آئیں وہ ٹشو پر لگیں، بعد ازاں جب قطرےسب نکل جائیں اور نماز  کا وقت ہوتو وہ ٹشو نکال کر پھینک دے ۔پھروضو کرکے ایسا شخص نماز پڑھ بھی سکتاہے اور نماز پڑھا بھی سکتاہے۔فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144004200998
تاریخ04-02-2019

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں