بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

مسافر امام کی اقتدا میں نماز ادا کرنا

سوال

سفر کے دوران مسجد میں نمازِ عصر کی جماعت کے لیے پیش امام دست یاب نہ ہونے کی وجہ سے مسافر نے جماعت کی امامت کی۔ مسافر امام نے خود قصر نماز کی نیت باندھی، لیکن مقیم نمازیوں کو اپنے مسافر ہونے کا نہ بتا سکا ۔ کیا مسافر اور مقیم نمازیوں کی نماز ادا ہوئی ؟ اگر نہیں تو اب جب کہ ان نمازیوں سے رابطہ ممکن نہیں تو مسافر امام اپنی اس غلطی کا ازالہ کس طرح کرسکتاہے ؟

جواب

مسافر امام کے پیچھے مقیم کی نماز ادا کرنا درست ہے،  مسافر امام کے سلام پھیرنے کے بعد مقیمین اپنی بقیہ نماز بغیر قراءت کے مکمل کریں گے، البتہ مسافر  امام کے لیے مستحب یہ ہے کہ اپنی نماز مکمل کرکے سلام پھیرنے کے بعد اپنے مسافر ہونے کا اعلان کردے، اور زیادہ بہتر یہ ہے کہ نماز شروع کرنے سے پہلے بھی اپنے مسافر ہونے کی اطلاع کردے۔ لہٰذا صورتِ مسئولہ میں اگر مسافر  امام نے اعلان نہیں کیا تو اس سے نماز پر کوئی اثر نہیں ہوگا،  مسافر امام کے سلام پھیرنے کے بعد مقیم مقتدیوں نے اگر اپنی بقیہ رکعات مکمل کرلیں تو سب کی نماز ہوگئی ہے، اعادہ کی ضرورت نہیں۔ فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144004200990
تاریخ04-02-2019

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں