بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

مضاربت میں دودھ کا کاروبار

سوال

ایک شخص کوڈیڑھ لاکھ دیامضاربت کےطورپر، جونفع ہوگاوہ ایک حصہ پیسےوالے کوملےگااور دوحصےکام والالے گا۔ تواس نے اس سے بھینس خریدلی بھینس کادودھ بیچ کر اس کانفع تقسیم کرلیتےہیں، کیایہ جائزہے؟

جواب

’’مضاربت‘‘ میں مذکورہ کاروبار کرنا یعنی بھینس کا دودھ بیچ کر نفع کمانا جائز ہے، اور طے شدہ حصص کے مطابق  نفع تقسیم ہوگا، بالفرض نقصان ہوا تو  پہلے جو نفع ہوچکا ہے، اس سے منہا کیا جائے گا، اور کاروبار میں کوئی نفع باقی نہ ہو تو نقصان  رب المال (سرمایہ فراہم کرنے والے) کے سرمایہ سے منہا کیا جائے گا۔اور کام کرنے والے کو اپنی محنت کے ضائع ہونے کا نقصان ہوگا۔

" وشرطها ․․․ کون الربح بینهما شائعًا فلو عَیَّنَ قدرًا فسدتْ وکون نصیب کلٍّ منهما معلومًا عند العقد. وفي الجلالیة: کل شرط یوجب الجهالة في الربح أو یقطع الشرکة (کما لو شرط لأحدهما دراهم مسامة) فیه یفسدها وإلا بطل الشرط وصحّ العقد اعتبارًا بالوکالة". (درمختار مع الشامي: ۸/ ۴۳۴، ط: کتاب المضاربة) فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144004200965
تاریخ02-02-2019

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں