بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

2 جُمادى الأولى 1448ھ 14 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

دو شادیاں کی ہوں تو اولاد میں میراث کیسے تقسیم ہوگی؟

سوال

میرے والد صاحب نے دو شادیاں کی ہیں،  پہلی بیوی کی وفات ہو چکی ہے، اس سے ایک بیٹا ہے۔ اور دوسری سے 2 بیٹے اور 4 بیٹیاں ہیں۔اب دوسری بیوی کی بھی وفات ہوچکی ہے۔ کیا پہلی بیوی سے جو بیٹا ہے، اس کو ساری جائیداد کا آدھا ملے گا؟

جواب

پہلی بیوی سے جو بیٹا ہے اگر وہ والد کی وفات کے وقت زندہ ہو تو اسے والد کی میراث میں سے اتنا ہی ملے گا جتنا دوسرے بیٹوں کو ملے گا۔

اگر ورثاء اتنے ہی ہیں جتنے سوال میں درج ہیں تو کل ترکہ کے اسی (80) حصے  کیے جائیں گے جس میں دس حصے (والد کی وفات کے وقت موجود) بیوہ کو اور سات سات حصے ہر ایک بیٹی اور چودہ چودہ حصے ہرایک بیٹے کو ملیں گے۔بہرحال یہ درست نہیں ہے کہ پہلی  بیوی کے بیٹے کو آدھی جائیداد ملے گی۔ فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144004200955
تاریخ02-02-2019

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں