بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

13 جُمادى الأولى 1448ھ 25 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

عورت پر غسل واجب ہونے کے اسباب

سوال

عورت پر چار حالتوں میں غسل فرض ہوتا ہے: 1 ۔حیض 2 ۔نفاس 3.منی کا اپنے مخرج سے کود کر نکلنا اور 4 ۔مرد کے عضو تناسل کا سپاری کے بقدر دخول۔

 نمبر4 میں یہ وضاحت فرمائیں کہ اگر دخول پیچھے کے راستے سے ہوتو کیا پھر بھی عورت پر غسل فرض ہو گا؟

جواب

 مذکورہ صورت میں بھی عورت پر غسل واجب ہوگااور یہ فعل  سخت گناہ اور حرام ہے، ایسا کرنے پر حدیث شریف میں لعنت آئی ہے۔فتاوی ہندیہ میں ہے:

"(السبب الثاني الإيلاج ): الإيلاج في أحد السبيلين إذا توارت الحشفة يوجب الغسل على الفاعل والمفعول به أنزل أو لم ينزل، وهذا هو المذهب لعلمائنا.كذا في المحيط. وهو الصحيح.كذا في فتاوى قاضي خان. ولو كان مقطوع الحشفة يجب الغسل بإيلاج مقدارها من الذكر .كذا في السراج الوهاج". (1/193)فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144004200944
تاریخ31-01-2019

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں