بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

24 ربیع الثانی 1448ھ 07 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

بندوق سے شکار کرنے کا حکم

سوال

بندوق سے شکار کرتے ہوئے اگر تکبیر کہی جائے اور اس گولی سے جانور مر گیا، ذبح نہیں کیا۔تو اس کا کھانا جائز ہے یا نہیں؟

جواب

بندوق کی گولی سے کیا ہوا شکار جب تک "بسم اللہ" یا "اللہ اکبر"  کہہ کر ذبح نہ کیا جائے اس وقت تک اس کا گوشت کھانا جائز نہ ہو گا ؛ کیوں کہ گولی سے زخم لگتا ہے ذبح نہیں ہوتا اور شریعت میں ذبیحہ کے حلال ہونے کے لیے ذبح ہونا ضروری ہے، لہٰذا بسم اللہ پڑھ کر چھوڑی ہوئی گولی سے کیا ہوا شکار ذبح سے قبل مر جائے تو اس کا کھانا جائز نہیں ہے، حرام ہے۔

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (6/ 471):
"(فإن تركها) أي الذكاة (عمداً) مع القدرة عليها (فمات) ...... (أو بندقة ثقيلة ذات حدة) لقتلها بالثقل لا بالحد ... حرم)".
فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن

فتویٰ نمبر 144004200941
تاریخ31-01-2019

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں