بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

کیا غریب کی زکوة سے مدد کی جا سکتی ہے؟

سوال

 ایک غریب خاندان نےکچی آبادی میں اپنا پرانا غیر لیز شدہ مکان کچھ مالی وسائل اکھٹا کر کے اور کچھ ادھار لے کر اس کو پکا کرنا شروع کیا، مگر مہنگائی کے باعث وہ تمام رقم اس مکان کی تکمیل کے لیے ناکافی رہی اور اب بھی کافی رقم درکار ہے مگر وسائل نہیں ہیں۔میاں بیوی بچے ملاکر پانچ افراد ہیں ۔ ماہانہ آمدنی ۲۵۰۰۰ہے۔ گھر یلو اخراجات اور بیماری کے اخراجات کے باعث ماہانہ آمدنی میں گزارا  مشکل سے ہوتا ہے اور پس انداز نہیں ہو سکتا۔ گزارش ہے کہ شریعت کی رو سےایسی صورت میں کیا زکاۃ کی رقم سے اس خاندان کے مکان کی تکمیل میں مدد کی جا سکتی ہے؟ اور کتنی رقم اس کام میں صرف کی جا سکتی ہے؟ راہ نمائی فرمائیے!

جواب

صورتِ مسئولہ میں اگر واقعۃً  مذکورہ شخص کے پاس ساڑھے باون تولہ چاندی کی قیمت کے مساوی نقدی یا ضروریات زندگی سے زائد سامان یا کسی بھی قسم کا مالجس کی مالیت ساڑھے باون تولہ چاندی کی قیمت کے مساوی ہو،  موجود نہ ہو تو ایسے شخص کی زکاۃ  کی مد سے مدد کی جاسکتی ہے۔ زکاۃ  کی مد سے یک بارگی اتنی مدد کی جاسکتی ہے جس سے اس کی ضرورت پوری ہوجائے۔فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144004200900
تاریخ29-01-2019

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں