بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

2 جُمادى الأولى 1448ھ 14 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

سید ہونے کے لیے نسب کی شہرت کافی ہے

سوال

 ہم چوں کہ آباءو اجداد سے سید خاندان مشہور ہیں،لیکن یہاں مقامی علماء اعتراض کرتے ہیں،حال آں کہ ہمارے پاس حضرت حسین بن علی رضی اللہ تعالیٰ عنھما تک شجرہ نسب بھی موجود ہے ، کیا معترضین کے کہنے پر ہم سید نہیں رہے؟ اور کیا حسب نسب میں شہرت کافی نہیں جب کہ ہم دادا پردادا سے سید خاندان مشہور ہیں؟

جواب

نسب میں شہرت کافی ہے، لیکن شرط یہ ہے کہ سید نہ ہونے پر کوئی واضح ثبوت موجود نہ ہو، لہذا جب آپ لوگ آباؤاجداد سے سید مشہور ہیں، اور آپ کے پاس نسب نامہ بھی موجود ہے تو  سید ہونے کے لیے اتنی شہرت کافی ہے۔

فتح القدير للكمال ابن الهمام (7/ 388):
"قال: (ولايجوز للشاهد أن يشهد بشيء لم يعاينه إلا النسب.

(قوله: ولا يجوز للشاهد أن يشهد بشيء لم يعاينه) أي لم يقطع به من جهة المعاينة بالعين أو السماع إلا في النسب والموت والنكاح والدخول وولاية القاضي فإنه يسعه أن يشهد بهذه الأمور إذا أخبره بها من يثق به من رجلين عدلين أو رجل وامرأتين، ... وفي الفصول عن شهادات المحيط: في النسب أن يسمع أنه فلان بن فلان من جماعة لايتصور تواطؤهم على الكذب عند أبي حنيفة، وعندهما إذا أخبره عدلان أنه ابن فلان تحل الشهادة، وأبو بكر الإسكاف كان يفتي بقولهما، وهو اختيار النسفي".فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144004200889
تاریخ28-01-2019

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں