بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

2 جُمادى الأولى 1448ھ 14 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

حلال لکھا پیکٹ پھینکنا

سوال

 فتوی نمبر : 144001200267 سے  متعلق سوال تھا. اکثر  پیکٹوں پر حلال لکھا ہوتا ہے اور یہ لفظ بھی قرآنِ کریم میں ہے. تو اس کا وہی حکم ہو گا؟ اور کیا عربی جہاں لکھی ہو، جیسے امپورٹڈ یا ایکسپورٹ کرنے والی چیزوں پر، تو کیا حکم ہے؟  کیا نیت کا اعتبار نہیں ہو گا؟

جواب

صورتِ مسئولہ میں ایسے پیکٹ  ایسی جگہ پھینکنا جہاں بے ادبی کا اندیشہ ہو اس سے اجتناب کرنا چاہیے۔ فتاوی ہندیہ میں ہے:

’’إذا كتب اسمَ ’’فرعون‘‘ أو كتب ’’أبو جهل‘‘ على غرض، يكره أن يرموه إليه؛ لأن لتلك الحروف حرمةً، كذا في السراجية‘‘. (٥/ ٣٢٣، ط: رشيدية) فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144004200866
تاریخ26-01-2019

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں