بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

تھکاوٹ کی وجہ سے سنت نماز کو چھوڑنے کا حکم

سوال

تھکاوٹ کی صورت میں آدمی سنت کو چھوڑ کر فرض نماز پڑھے، تو کیا گناہ ہے؟

جواب

صرف تھکاوٹ کی وجہ سے سنتِ مؤکدہ  کو چھوڑنا محرومی اور گناہ کی بات ہے، البتہ اگر کوئی شخص شرعی سفر یا سخت بیماری کی مشقت کی وجہ سے سنتِ مؤکدہ نماز چھوڑ کر صرف فرض پڑھ لے تو وہ آدمی گناہ گار نہیں ہوگا۔ باقی سنتِ غیر مؤکدہ نماز کا حکم یہ ہے کہ اس کا پڑھنا بہت اجر و ثواب کا باعث ہے، لیکن اس کے بلا عذر  چھوڑنے سے بھی گناہ نہیں ملتا۔فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144004200854
تاریخ25-01-2019

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں