بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

8 جُمادى الأولى 1448ھ 20 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

مسافر کے لیے جمعہ کی نماز پڑھنے کا حکم

سوال

مسافر کے لیے جمعہ نماز پوری ہے یا اس میں قصر ہے؟

جواب

مسافر کے لیےشہر میں ہوتے ہوئے جمعہ کی نماز ادا کرنا افضل ہے، اور اگر فوری سفر درپیش نہ ہو تو  پہلے اور بعد کی سنتیں بھی پڑھ لے، تاہم اگر وہ جمعہ کی نماز کے لیےحاضر نہ ہو اور اپنی قیام گاہ میں ظہر کی قصر ادا کرلے تو  شرعاً اس کی اسے اجازت ہے۔ واضح رہے کہ قصر کا حکم صرف ظہر، عصر اور عشاء کی فرض نمازوں میں ہے، ان کے علاوہ بقیہ نمازوں میں قصر نہیں ہے۔ باقی سنتوں کا حکم اوپر درج کردیا گیا ہے۔ فتاوی شامی میں ہے:

"الظهر لهم رخصة فدل علی ان الجمعة عزيمة وهي افضل ..." الخ (٢/ ١٥٥)فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144004200846
تاریخ25-01-2019

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں