بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

3 تولہ سونے کی مالک خاتون کا زکاۃ دینا

سوال

ایک عورت جو اپنے مال دار خاوند سے الگ ہوگئی گھریلو جھگڑے کی وجہ سے، دو بچیاں اور دو بیٹے ہیں اس کے ساتھ کرائے کے مکان میں رہتے ہیں، بیٹے کام کرتے ہیں لیکن گھر کا گزارا مشکل سے کرتے ہیں اور وہ عورت خود بھی 3 تولہ سونے کی مالکن ہے ،اس عورت کو کوئی آدمی زکاۃ یاصدقہ دے تو اس عورت کے لیے لینا جائز ہے یا نہیں؟

جواب

صورتِ  مسئولہ میں اگر مذکورہ خاتون کی ملکیت میں  تین تولہ سونے کے ساتھ  کچھ نقدی ہو یا ضروریاتِ زندگی سے زائد سامان موجود ہو تو اس صورت میں صدقاتِ واجبہ و زکاۃ لینا اس کے لیے جائز نہ ہوگا۔اگر ان تین تولہ سونا کےعلاوہ اور کچھ نہ ہو تو اس کےلیے زکاۃ لینا جائز ہے۔ فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144004200843
تاریخ25-01-2019

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں