بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

8 جُمادى الأولى 1448ھ 20 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

شک کی وجہ سے حرمتِ رضاعت کا حکم

سوال

دو بھائی ہیں،  ایک کی بیٹی ہے  اور ایک کا بیٹاہے، اس بیٹی اور بیٹے کو دونوں بھائیوں  کی والدہ دودھ پلاتی ہے اور والدہ بوڑھی ہے،  اس کو شک ہے  کہ میرے پستان میں دودھ ہے  یا نہیں،  اور بچوں نے پی لیا ہے  یا نہیں، تو اس دونوں بچوں کا نکاح آپس میں کرایا جا سکتا ہے یا نہیں؟

جواب

فقہاءِ کرام نے لکھا ہے کہ اگر کسی عورت نے اپنا پستان کسی بچے کے منہ میں داخل کیا اور اس کو شک ہو کہ پستان میں دودھ ہے یا نہیں تو ایسی صورت میں رضا عت ثابت نہیں ہو گی۔

لہذا صورتِ مسئولہ میں اگر دونوں بھائیوں کی والدہ نے ایک کے بیٹے اور ایک کی بیٹی کو سینے سے لگایا اور شک ہے کہ دودھ تھا یا نہیں تو شک کی وجہ سے حرمت ثابت نہ ہو گی، دونوں بچوں کا نکاح آپس میں کرایا جا سکتا ہے۔

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (3/ 212):
"وفي الفتح: لو أدخلت الحلمة في في الصبي وشكت في الارتضاع لاتثبت الحرمة بالشك". 
فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144004200808
تاریخ23-01-2019

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں