بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

کیا فرض حج کے لیے استخارہ کرنا چاہیے؟

سوال

ایک شخص پر حج فرض ہے اور وہ حج کا ارادہ رکھتا ہے تو کیا اس کو حج پر جانے کے لیے استخارہ کرنا چاہیے؟  عربی حوالوں کے ساتھ جواب درکار ہے!

جواب

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم  سے استخارہ کے  متعلق وارد شدہ حدیث کا مصداق بنی آدم کا  وہ عمل ہے جس کے متعلق اسے علم نہ ہو کہ  اس کا  کرنا بہتر ہے یا نہیں، اور جن امور کا کرنا انسان پر فرض ہے اس کے لیے استخارہ نہیں، بلکہ اس کا کرنا انسان پر ویسے ہی لازم ہے،  اس بنا پر اگر انسان پر حج فرض ہو جاتا ہے تو  اس بات کے لیے استخارہ نہیں ہے کہ حج کروں یا نہیں،  جیساکہ کسی نماز (مثلاً: ظہر) کا وقت داخل ہونے کے بعد اس بات کا استخارہ نہیں ہوتا کہ نماز پڑھوں یا نہیں۔ البتہ حج کے حوالے سے یہ استخارہ کیا جاسکتاہے کہ کس گروپ کے ساتھ، یا کس ایئر لائن میں سفر کروں۔

حاشية الطحطاوي على مراقي الفلاح شرح نور الإيضاح (ص: 397:)
"قوله: "وندب صلاة الاستخارة" أي طلب ما فيه الخير وهي تكون لأمر في المستقبل ليظهر الله تعالى خير الأمرين". 
فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144004200793
تاریخ22-01-2019

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں