بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

13 جُمادى الأولى 1448ھ 25 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

اگر فلاں کام ہو گیا تو 50 روزے رکھوں گی کہنے کا حکم

سوال

ایک خاتون نے 50 روزے رکھنے کی نذر مانی کہ اگر میرا فلاں کام ہو گیا تو میں 50 روزے رکھوں گی، اور وہ کام ہوگیا، اب سوال یہ ہے کہ کیا اب اس پر 50 روزے رکھنا لازم ہے؟ اگر لازم ہے تو کیا ایک ساتھ رکھنے ہوں گے یا وقفہ وقفہ سے رکھ  سکتی ہے؟ کیا روزوں کے بدلہ میں فدیہ وغیرہ دے سکتی ہے؟ 

جواب

صورتِ مسئولہ میں جس کام کے ہونے پر 50 روزے رکھنے کی نذر مانی تھی اس کے ہو جانے کے بعد مذکورہ خاتون پر 50 روزے رکھنا ہی لازم ہے، روزوں کے بدلہ میں فدیہ نہیں دے سکتیں، نیز اگر مسلسل 50 روزے رکھنے کی نذر مانی تھی تو وقفہ کے بغیر مسلسل روزے رکھنے لازم ہوں گے، اور اگر نذر مانتے وقت مسلسل رکھنے کی قید نہیں لگائی تھی تو وقفہ وقفہ سے روزے رکھ سکتی ہیں، تاہم پچاس کا عدد مکمل کرنا ضروری ہوگا۔ فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144004200731
تاریخ19-01-2019

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں