بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

13 جُمادى الأولى 1448ھ 25 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

ماہ واری کی عادت سے زائد آنے والے خون کا حکم

سوال

مجھے شرعی عذر سات دن ہوتے ہیں،  لیکن اس مہینہ تقریباً 15 دن ہوگئے ہیں، خون نہیں رک رہا، کیا میں نماز پڑھ سکتی ہو؟

جواب

اگر آپ کی ماہ واری کی عادت سات دن ہے، اور  اس مرتبہ خون سات دن کے بعد بھی آتا رہا اور دس دن سے بڑھ گیا تو ایسی صورت میں عادت کے ایام (سات دن) کے بعد آنے والا خون ماہ واری کا نہیں ہے، بلکہ استحاضہ (بیماری) کا ہے، ان دنوں میں نماز کی ادائیگی کرنی ہوگی، اور عادت کے بعد جتنے دن نمازیں نہیں پڑھیں ان کی قضا بھی کرنی ہوگی۔

’’ أما المعتادة فما زاد علی عادتها وتجاوز العشرة في الحیض والأربعین في النفاس یکون استحاضة‘‘. (شامي بیروت ۱؍۴۱۳-۴۱۴، زکریا ۱؍۴۷۷)

استحاضہ کے احکام سے متعلق تفصیل درج ذیل لنک پر ملاحظہ فرمائیں: 

http://www.banuri.edu.pk/readquestion/%D9%85%D8%B3%D8%AA%D8%AD%D8%A7%D8%B6%DB%81-%D8%B9%D9%88%D8%B1%D8%AA-%DA%A9%DB%8C-%D9%86%D9%85%D8%A7%D8%B2-%D8%B1%D9%88%D8%B2%DB%92-%D8%A7%D9%88%D8%B1-%D8%AA%D9%84%D8%A7%D9%88%D8%AA-%DA%A9%D8%A7-%D8%AD%DA%A9%D9%85/15-01-2019

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144004200710
تاریخ18-01-2019

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں