بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

13 جُمادى الأولى 1448ھ 25 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

شرم گاہ کو ہاتھ لگانا ناقض وضو نہیں

سوال

 شوہر بیوی کی اور بیوی شوہر کی شرم گاہ کو بغیر کسی حائل کے ہاتھ لگاۓ جب کہ نا ہم بستری کرے اور نہ ہی مذی نکلے تو صرف ہاتھ کے لگانے سے وضو ٹوٹ جاتا ہے یا نہیں؟

جواب

محض شرم گاہ کو ہاتھ لگانے سے وضو نہیں ٹوٹتا ۔البتہ دوبارہ وضوکرلینا بہتر ہے۔فتاوی شامی میں ہے:

"( لا ) ينقضه ( مس ذكر ) لكن يغسل يده ندباً ( وامرأة ) وأمرد، لكن يندب للخروج من الخلاف لا سيما للإمام". (1/147)فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144004200706
تاریخ18-01-2019

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں