بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

13 جُمادى الأولى 1448ھ 25 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

ربیع الاول میں چراغاں کرنا اور مٹھائی تقسیم کرنا

سوال

ربیع الاول میں گھروں پر لائٹس لگانا اور مٹھائی وغیرہ تقسیم کرنا کیساہے؟

جواب

ربیع الاول میں جشن منانا،اور چراغاں کرنا اسلامی تعلیم کا حصہ نہیں ہے، بلکہ اسلامی تعلیمات کے خلاف ہے۔  حضورِ اکرمﷺ نے اپنی  ولادت  کے دن جشن نہیں منایا اورصحابہ کرامؓ، تابعین، تبع تابعین، ائمہ مجتہدین نے بھی اس کو کبھی نہیں منایا، خیر القرون اور تقریباً ابتدائی چھ صدیوں کے علماء صلحاء اور اولیاءِ کرام نے اسے نہیں منایا، ساتویں صدی ہجری میں ایک بادشاہ نے یہ سلسلہ ایجاد کیا، لہذا ربیع الاول میں ثواب سمجھ کر اہتمام سے چراغاں کرنا بدعت ہے۔

ان ایامِ مخصوصہ میں خاص طور پر کھانے پینے کی اشیاء بنانااور تقسیم کرنا بدعت ہے، لہذا ان کے کھانے پینے سے اجتناب کرناچاہیے۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو  ثواب پہنچانامقصود ہوتو اس کے لیے کسی مہینے یا دن کاانتظارنہیں کرناچاہیے، بلکہ کسی بھی دن جومیسر ہوصدقہ کرکے اس کا ثواب بخش دیاجائے۔(کفایت المفتی،1/237، ط:دارالاشاعت-الاعتصام للشاطبی،1/39،ط:بیروت)فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144004200703
تاریخ18-01-2019

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں