بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

2 جُمادى الأولى 1448ھ 14 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

میری قسم ہے کہ میں یہ نہیں کھاؤں گی

سوال

کسی نے کہا کہ میری قسم ہے میں یہ نہیں کھاؤں گی، یہ کہنے سے کیا قسم ہو گئی؟ اب اگر وہ کھانا پڑے تو کیا صورت ہوگی؟

جواب

صورتِ  مسئولہ میں قسم منعقد ہو چکی ہے؛ لہذا اگر وہ چیز جس کی تعین کرکے قسم کھائی تھی کھالی تو قسم ٹوٹ جائے گی اور مذکورہ خاتون پر قسم کا کفارہ ادا کرنا لازم ہوگا، اور قسم کا کفارہ یہ ہے کہ یا تو دس مسکینوں کو صبح شام دو وقت کا کھانا جیسا عام طور پر وہ  خود  کھاتی ہے کھلادے، یا دس صدقہ فطر ادا کردے یا دس مسکینوں کو ایک ایک جوڑا کپڑا دے دے، اور اگر مذکورہ خاتون خود ہی مستحق ہو مال و اسباب کچھ نہ ہو تو بطورِ کفارہمسلسل تین روزے رکھ لے۔ سورةالمائدة میں اللہ رب العزت کا ارشاد ہے:

لَا يُؤَاخِذُكُمُ اللَّهُ بِاللَّغْوِ فِي أَيْمَانِكُمْ وَلَٰكِن يُؤَاخِذُكُم بِمَا عَقَّدتُّمُ الْأَيْمَانَ ۖ فَكَفَّارَتُهُ إِطْعَامُ عَشَرَةِ مَسَاكِينَ مِنْ أَوْسَطِ مَا تُطْعِمُونَ أَهْلِيكُمْ أَوْ كِسْوَتُهُمْ أَوْ تَحْرِيرُ رَقَبَةٍ ۖ فَمَن لَّمْ يَجِدْ فَصِيَامُ ثَلَاثَةِ أَيَّامٍ ۚ ذَٰلِكَ كَفَّارَةُ أَيْمَانِكُمْ إِذَا حَلَفْتُمْ ۚ وَاحْفَظُوا أَيْمَانَكُمْ ۚ كَذَٰلِكَ يُبَيِّنُ اللَّهُ لَكُمْ آيَاتِهِ لَعَلَّكُمْ تَشْكُرُونَ (89) فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144004200665
تاریخ15-01-2019

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں