بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 جُمادى الأولى 1448ھ 19 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

بینک کے اوپر بنی ہوئی مسجد میں نماز پڑھنا

سوال

ایک مارکیٹ ہے جس میں یو بی ایل بینک بھی ہے اور بینک کے اوپر مسجد بنائی ہے ، مارکیٹ کے مالک نے باربار بینک ہٹانے کی درخواست بھی دی،لیکن اب تک بینک نہیں ہٹا ہے۔تو کیا اس مسجد میں نماز پڑھنا درست ہے؟

جواب

صورتِ مسئولہ میں مذکورہ مسجد میں نماز پڑھنا جائز ہے، مارکیٹ میں صرف بینک کے اوپر مسجد بننے سے اس مسجد میں نماز پڑھنے میں کوئی کراہت نہیں آئے گی،کیوں کہ بینک نیچے ہے اور مسجد الگ ہے اور بینک کی ملکیت بھی نہیں ہے، تاہم چوں کہ یہ شرعی مسجد نہیں ہے؛ اس لیے جامع مسجد میں نماز پڑھنے کا جتنا ثواب ہے وہ اس میں نہیں ملے گا، اس لیے جامع مسجد میں جاکر نماز پڑھنے کو ترجیح دینا چاہیے۔فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144004200652
تاریخ15-01-2019

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں