بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

سات بھائیوں اور چار بہنوں میں تقسیم ترکہ

سوال

میری غیر شادی شدہ بہن کا انتقال ہوگیا، اب بہن بھائیوں(سات بھائیوں اور چار بہنوں) میں وراثت کیسے تقسیم کریں؟والدین کا انتقال ہوگیا ، کیا بھانجوں اور بھتیجوں کو بھی حصہ ملے گا؟

جواب

مرحومہ کا ترکہ اس کے بھائیوں اور بہنوں میں تقسیم ہوگا،بھائیوں کی موجودگی میں بھتیجوں اور بھانجوں کا شرعاً  کوئی حق نہیں ہے،تقسیم کا طریقہ یہ ہے کہ کل ترکہ کے اٹھارہ حصے کرکے دو  دو حصے ہر بھائی کو اور ایک ایک حصہ ہر بہن کو ملے گا۔فقط واللہ خیر الوارثین

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144004200634
تاریخ14-01-2019

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں