بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

ہنڈی کے ذریعہ رقم بھیجنا

سوال

 یہ جو ہنڈی کے ذریعے رقم دوسرے ممالک سے بھیجتے  ہیں, کیا یہ طریقہ جائز ہے?جب کہ ہم سٹوڈنٹس ہیں اور ہمیں سکالرشپ ملتی ہے، اگر ہم بھی بینک کے ذریعے بھیجے تو ہمیں بھی ٹیکس دینا پڑتا ہے.

جواب

ہنڈی کا کاروبار ملکی وبین الاقوامی قوانین کی رو سے ممنوع ہے ؛ اس لیے رقم کی ترسیل کے لیے جائز قانونی راستہ ہی اختیار کرنا چاہیے ۔ لیکن  اگر کسی نے ہنڈی کے ذریعے رقم بھجوائی تو جتنی رقم دی جائے اتنی ہی رقم آگے پہنچانا ضروری ہے، اس میں کمی بیشی جائز نہیں ہے، البتہ بطورِ اجرت الگ سے طے شدہ اضافی رقم لی جاسکتی ہے۔ فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144004200625
تاریخ14-01-2019

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں