بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

2 جُمادى الأولى 1448ھ 14 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

ویب سائٹ ڈیزائننگ میں خواتین کی تصویر لگانا

سوال

میں ایک سافٹ ویئر ہاؤس میں کام کرتا ہوں، میرا کام ویب سائٹ ڈیزائن اور ڈیولپ کرنا ہے، پوچھنا یہ ہے کہ کبھی ویب سائٹ پر کسٹمر کی ڈیمانڈ پر لڑکیوں کی تصویر لگانی پڑتی ہے، جو میں لگانا نہیں چاہتا  اور اسے غلط بھی سمجھتا ہوں، مگر میری جاب کی نوعیت ایسی ہے کہ لگانی پڑتی ہے،  یا کبھی فری لانس کام کرنے میں کلائنٹ کے کہنے پر ایسا کرنا پڑتا ہے۔میں نے کسی مفتی صاحب سے پوچھا تھا تو انہوں نے کہا تھا کہ بہت بے حیا تصویر نہ ہو تو لگا سکتے ہیں،اس بارے میں آپ راہ نمائی فرما دیں؟

جواب

واضح رہے کہ جان دار کی نفسِ تصویر خواہ وہ مرد کی ہو یا عورت کی، اپنی ہو یا کسی اور کی ویب سائٹ پر لگانا شرعاً جائز نہیں، لہذا صورتِ مسئولہ میں آپ کے لیے ویب سائٹ  بناتے ہوئے کسی بھی جان دار کی تصویر لگانا جائز نہیں۔فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144004200602
تاریخ13-01-2019

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں