بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

عدالت کے ذریعہ طلاق لینے کا حکم

سوال

کیاعدالت کے ذریعہ طلاق لینا درست ہے ؟کیا اس طرح طلاق ہو جاتی ہے؟

جواب

خلع اور طلاق  دونوں ہی شوہر کا اختیار ہے اور وہی دے سکتا ہے، عدالت  شوہر کی رضامندی  کے بغیر خلع یا طلاق دینے  کا اختیار نہیں رکھتی ۔البتہ اگر شوہر کی  جانب سے بیوی پر ظلم ہو  جیسے نفقہ وغیرہ نہ دینا اور بیوی اس کو گواہوں کے ذریعے ثابت کردے   تو مسلمان قاضی عدالت میں  شرائطِ معتبرہ کے پائے جانے کی صورت میں اس کے خلاف  جدائیگی کا فیصلہ کرسکتاہے۔اگر شوہر بیوی کو نہیں رکھنا چاہتا اور وہ عدالت کو طلاق دینے کا وکیل بنا دیتاہے، تو وکالت کے احکام کی رعایت ہونے کی صورت میں عدالت طلاق واقع کرسکتی ہے۔یاد رہے کہ  عدالت کی جانب سے جاری کردی  کسی مخصوص ڈگری پر فتوی اسی وقت دیا جاسکتا ہے جب کہ عدالت کی کروائی اور اس کی ڈگری مفتی  کے سامنے ہو۔  فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144004200598
تاریخ12-01-2019

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں