بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

17 جُمادى الأولى 1448ھ 29 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

کیا شریک اجیر بن سکتا ہے؟

سوال

ایک آدمی بیک وقت شریک اور تن خواہ دار بن سکتا ہے یا نہیں؟باحوالہ جواب عنایت فرمائیں!

جواب

اگر دویازائد افراد کسی کاروبار میں شریک ہوں اور ہرایک کے لیے  نفع کاتناسب طے کرلیاجائے تواب کوئی ایک فریق اپنے لیے الگ سےتن خواہ کامطالبہ نہیں کرسکتا؛ اس لیے کہ شراکت کے ساتھ ساتھ ایک شریک بطورِ اجرت کام کرے اس صورت  میں شریک کا اجیر ہونا لازم آتا ہے اور شرکت اوراجارہ جمع نہیں ہوسکتے ۔

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (6/ 60):
’’(ولو) استأجره (لحمل طعام) مشترك (بينهما فلا أجر له)؛ لأنه لا يعمل شيئاً لشريكه إلا ويقع بعضه لنفسه؛ فلا يستحق الأجر‘‘.
فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144004200588
تاریخ12-01-2019

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں