بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

17 جُمادى الأولى 1448ھ 29 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

پگڑی پر دوکان یا مکان لینے کا حکم

سوال

کیا  پگڑی والا مکان یا دوکان لینا جائز ہے؟  اور مالی اعتبار سے اس کے علاوہ لینے کی کوئی صورت نہیں بن رہی ہے۔

جواب

واضح رہے کہ مروجہ پگڑی کا  معاملہ شرعاً درست نہیں ہے؛ کیوں کہ  پگڑی  نہ تو مکمل   خرید وفروخت کا معاملہ ہے، اور نہ ہی مکمل اجارہ(کرایہ داری) ہے، بلکہ یہ دونوں کے درمیان ایک  ملا جلا معاملہ ہے، جس کی وجہ سے پگڑی پر لیے گئے مکان یا  دوکان پر بدستور مالک کی ملکیت برقرار رہتی ہے، لہذا صورتِ مسئولہ میں پگڑی کا معاملہ کرنا شرعاً درست نہیں ہے، اس کا متبادل کرایہ داری  کا معاملہ ہے جس میں شرعاً کوئی قباحت نہیں۔ فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144004200578
تاریخ11-01-2019

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں