بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

کلالہ کی میراث

سوال

میرا نام شاکرہ نسرین ہے۔میری بڑی بہن کا انتقال 2011 میں ہوا۔ ہم تین بہنیں اور تین بھائی ہیں۔ شریعت کے مطابق ہم بہن بھائیوں کا اپنی بڑی بہن کی پراپرٹی میں کتنا حصہ ہے؟ بڑی بہن غیر شادی شدہ تھیں.

جواب

 اگر میت کے ورثاء ٖ صرف  دو بہنیں اور تین بھائی ہوں والدین وغیرہ موجود نہ ہوں  تو  مرحومہ کے کفن دفن کے اخراجات اور قرضہ جات کی ادائیگی کے بعد مرحومہ نے اگر کوئی جائز وصیت کی ہو تو اس کو بقیہ مال کے ایک تہائی ترکہ میں سے نافذ کرنے کے بعد  مرحومہ  کی بقیہ کل جائے داد منقولہ و غیر منقولہ کے8 حصے کر کے  ہر بہن کو ایک ایک حصہ دیا جائے گا اور ہر بھائی  کو دو ،دو حصے دیے جائیں گے۔

یعنی سو روپے میں سے 12.5 ہر ایک بہن کو اور 25 ہر ایک بھائی کو ملیں گے۔فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144004200562
تاریخ10-01-2019

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں