بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

12 جُمادى الأولى 1448ھ 24 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

اہلِ تشیع کی دکان پر ملازمت کرنے کا حکم

سوال

میں ایک اہلِ تشیع کی دکان پر کام کرتا ہوں، ان کے گھر سے دن کے وقت کا کھانا آتا ہے ان لوگوں کے ہاں میرا تھوڑا بہت آناجانا بھی ہے، ان کی کسی مذہبی تقاریب میں آتا جاتا نہیں ہوں، لب لباب یہ کہ میرا ان کے ساتھ کام کرنے میں کوئی حرج تو نہیں؟ مسلکی معاملے پر میں یا وہ لوگ مجھ سے کوئی بات نہیں کرتے، صرف ہم لوگ کام سے کام رکھتے ہیں۔

جواب

اہلِ تشیع کی دکان پر ملازمت کرنے کی تو گنجائش ہے، لیکن ملازمت کے علاوہ امور مثلاً گھر میں آنے جانے اورزیادہ  میل ملاپ سے اجتناب کریں۔فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144004200554
تاریخ10-01-2019

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں