بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

نماز کا فدیہ

سوال

 میرے والد فوت ہو چکے ہیں آ خری عمر میں دو دن کی نمازیں ضعف کی وجہ سے رہ چکی ہیں، ان کیا کیا حکم ہے ؟

جواب

اگر والد صاحب نے فدیہ کی وصیت کی ہے تو ان کے ترکہ کے تہائی میں سے ان کی طرف سے دو دن کی نمازوں کا فدیہ دینا واجب ہوگا۔ہر نماز کا فدیہ ایک صدقۃ الفطر کی مقدار  کے برابر ہے،  ایک دن کی چھ نمازیں ہیں وتر کے ساتھ ۔

اور اگر مرحوم نے فدیہ کی وصیت نہیں کی تو شرعاً ورثا پر فدیہ ادا کرنا لازم نہیں، البتہ اگر ورثا از خود باہمی رضامندی سے ادا کردیں تو امید ہے کہ مرحوم آخرت کی باز پرس سے بچ جائیں گے۔ فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144004200550
تاریخ10-01-2019

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں