بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

29 ربیع الثانی 1448ھ 12 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

قادیانی کی دکان سے خریداری کرنا

سوال

ہمارے یہاں ایک دکان ہے جس کے بارے میں مشہور ہے کہ وہ قادیانی ہیں، لیکن ان کی دکان کی اشیاء آس پاس کی ساری دکانوں سے سستی ہوتی ہیں تو کیا ان سے اشیاء خریدسکتے ہیں؟

جواب

صورتِ مسئولہ میں مذکورہ دکان دار اگر واقعی قادیانی ہو یعنی یہ یقین ہو جائے یا قرائن سے معلوم ہوجائے کہ یہ قادیانی ہے تو اس سےخریدوفروخت ،تجارت، لین دین ،سلام و کلام ، ملنا جلنا، کھانا پینا ، شادی و غمی میں شرکت ، جنازہ میں شرکت، تعزیت ،عیادت،اور ان کے ساتھ کسی قسم کا تعاون  سب شریعتِِ اسلامیہ میں سخت ممنوع اور حرام ہیں، لہذا اس کی دکان سے کوئی چیز خریدنا جائز نہیں ہوگا،اگر چہ وہ سستے داموں فروخت کرے، اس سے وہ سیدھے سادھے مسلمانوں کو دھوکا دیتے ہیں اور اپنے کفر کے خلاف مسلمانوں کی نفرت کو کم کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔

البتہ اگر تحقیق سے ثابت ہوجائے کہ وہ قادیانی نہیں ہے، یا اس کے قادیانی ہونے کا کوئی قرینہ نہ ملے تو اس کی دکان سے خریداری کی جاسکتی ہے۔فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144004200548
تاریخ10-01-2019

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں