بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

16 جُمادى الأولى 1448ھ 28 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

تقسیم ترکہ

سوال

ایک شخص انتقال ہوا۔ اور اس نے بہت سارا مال چھوڑا، لیکن اس کے وارثین  اس مال کو ایک ہی ساتھ  تقسیم کرنے کی بجائے ایسے کرتے ہیں کہ  جب ضرورت پڑتی ہے تو ایک چیز کو بیچ کر اس پیسے میں سے اپنی اپنی تقسیم کو لے لیتے ہیں۔ مثلاً ایک گائے کو بیچ کر اس پیسہ کو بیٹے لوگ دو دو حصے اور بیٹی لوگ ایک ایک حصے لیتے ہیں ۔ کیا ایسے تقسیم کرنا جائز ہے؟

جواب

صورتِ مسئولہ میں اگر تمام ورثاء  سوال میں ذکر کردہ طریقہ کے مطابق ترکہ کی تقسیم پر راضی ہوں تو اس طرح تقسیم کی جا سکتی ہے، البتہ اگر کوئی راضی نہ ہو تو مکمل ترکہ کو یک بارگی تقسیم کرکے ہر وارث کو اس کا حصہ شرعی دے دینا چاہیے۔ فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144004200528
تاریخ09-01-2019

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں